آج یہ سوچ کے رکھ دی ہے کہ اب کل ہو گی
جانے کب تک تِری تصویر مکمل ہو گی
عشق میں جس کی دیوانی تھی وہی شہزادہ
ہنس کے بولا ارے چھوڑو، کوئی پاگل ہو گی
جب کھلی چھت پہ ہواؤں کا چلے گا جادو
ڈگمگائی جو محبت کی یہ کشتی اک پل
دل کے دریا میں بڑے زور کی ہلچل ہو گی
جب کوئی درد پرانا سا ابھر آئے گا
خشک آنکھوں کی ندی اشک سے جل تھل ہو گی
یاد رہتا نہیں رخشاںؔ! کسی فرہاد کو اب
کوئی شیریں کہیں اس کے لیے بے کل ہو گی
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment