Monday, 11 January 2016

آج یہ سوچ کے رکھ دی ہے کہ اب کل ہو گی

آج یہ سوچ کے رکھ دی ہے کہ اب کل ہو گی
جانے کب تک تِری تصویر مکمل ہو گی
عشق میں جس کی دیوانی تھی وہی شہزادہ
ہنس کے بولا ارے چھوڑو، کوئی پاگل ہو گی
جب کھلی چھت پہ ہواؤں کا چلے گا جادو
رات کی آنکھ بھی پھر نیند سے بوجھل ہو گی
ڈگمگائی جو محبت کی یہ کشتی اک پل
دل کے دریا میں بڑے زور کی ہلچل ہو گی
جب کوئی درد پرانا سا ابھر آئے گا
خشک آنکھوں کی ندی اشک سے جل تھل ہو گی
یاد رہتا نہیں رخشاںؔ! کسی فرہاد کو اب
کوئی شیریں کہیں اس کے لیے بے کل ہو گی

رخشاں ہاشمی

No comments:

Post a Comment