Wednesday, 6 January 2016

محبت کو اشارا مل گیا ہے

محبت کو اشارا مل گیا ہے
مِرے غم کو سہارا مل گیا ہے
سمندر کا ستم کتنا سہیں ہم
چلو کشتی! کنارا مل گیا ہے
خدا کا شکر ہے معصوم خواہش
تمہیں سب کچھ خدارا مل گیا ہے
مِرے ہر خواب جھوٹے ہو گئے کیوں
مقدر کا ستارا مل گیا ہے
اسی گھر میں پناہ ملتی تھی رخشاںؔ
اسی دل میں گزارا مل گیا ہے  

رخشاں ہاشمی

No comments:

Post a Comment