محبت کو اشارا مل گیا ہے
مِرے غم کو سہارا مل گیا ہے
سمندر کا ستم کتنا سہیں ہم
چلو کشتی! کنارا مل گیا ہے
خدا کا شکر ہے معصوم خواہش
مِرے ہر خواب جھوٹے ہو گئے کیوں
مقدر کا ستارا مل گیا ہے
اسی گھر میں پناہ ملتی تھی رخشاںؔ
اسی دل میں گزارا مل گیا ہے
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment