Wednesday, 6 January 2016

اک کیفیت پیاس کی دائم ہمیں قبول

اک کیفیت پیاس کی، دائم ہمیں قبول
دن میں سپنے دیکھنا، آنکھوں کا معمول
ایک پیالہ دھوپ کا، پی کر ہوئے نہال
سائیں ترے بام سے، اترا کون ملول
منظر میری آنکھ کا، تیری شام کا رنگ
سرخ شفق کی جھیل میں، زرد کنول کا پھول
دیکھا تیرے بھیس میں اپنا پہلا رُوپ
آئی دل کے بھید میں، صدیاں گہری بھول
دستک ہے پیغام کی، کھولو بند کواڑ
اڑتے دیکھو دور تک، روشنیوں کی دھول
دیکھو تو اس شخص کے، ہونے کے انداز
جیسے دکھ کی دھوپ میں، پیلا سبز ببول

آفتاب اقبال شمیم

No comments:

Post a Comment