لات و مناتِ جہل کے فرزند ہیں بہت
اس شہر میں ہمارے خداوند ہیں بہت
کھلتے نہیں یہ زورِ مسلسل کے باوجود
آلودگیٔ کہنہ سے در بند ہیں بہت
دے وقفۂ سکون پر اٹھا ہُوا قدم
کھوئیں گے کیا یہ معرکہ دوبارہ ہار کر
فکرِ زیاں کریں جو خردمند ہیں بہت
پوشیدگی ہے ایک طرح کی برہنگی
دلقِ گدا پہ مکر کے پیوند ہیں بہت
اِن کو شعورِ رفتہ و آیندہ دیجیے
یہ لوگ رسمِ وقت کے پابند ہیں بہت
آفتاب اقبال شمیم
No comments:
Post a Comment