بھیجا ہے مے کدے سے کسی نے پیامِ غم
آؤ کہ منتظر ہے کوئی ہم کلامِ غم
لے جائے اب جہاں کہیں شبدیزِ زندگی
تھامی ہوئی ہے ہاتھ میں ہم نے زمامِ غم
یوں اپنے ظرف کا نہ تمسخر اڑائیے
آئے گا ایک رقعۂ خالی جواب میں
اُس کے بجائے بھیجیے نامہ بنامِ غم
مفرورِ معتبر ہیں، ملیں گے یہیں کہیں
اپنے زیاں کے کھوج میں والا کرامِ غم
سب کو بلائے عشرت ارزاں نے کھا لیا
اب تو ہی رہ گیا ہے برائے طعامِ غم
آفتاب اقبال شمیم
No comments:
Post a Comment