محبت آزماتی ہے
تماشا بھی دکھاتی ہے
اسے ہم یاد کرتے ہیں
ہمیں یہ بھول جاتی ہے
نہ جانے کیا ہوا دل کو
ابھی مت ٹوٹ کر بکھرو
یہ لمحہ حادثاتی ہے
نہ جھانکو مِری آنکھوں میں
محبت جھلملاتی ہے
حقیقت بھول کر رخشاںؔ
کہانی کیوں سناتی ہے
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment