ہم درد و الم کر دیں بیاں آہ و فغاں سے
لاچار نہیں اتنے بھی اب اپنی زباں سے
بھرنے لگے جو زخم چبھو لیتے ہیں نشتر
زحمت نہ کرو کھینچنے کی تیر کماں سے
رہ کر مِرے سینے میں اس ہرجائی کی خاطر
بے گھر کیا اے دل! مجھے میرے ہی مکاں سے
چلمن ہی میں رہنے دو سنو، ضد نہیں اچھی
کچھ بڑھ کے حسیں ہم ہیں تِرے وہم و گماں سے
توہین نہ کر ضبط کی، اے آنکھ کے موتی
رُک جائے وہیں کہہ دوں اگر اشکِ رواں سے
اے سانپ! نہ کر زعم کہ انسان یہ تجھ سے
اُگلے ہے کہیں زیادہ زہر اپنی زباں سے
ہر دُکھ کا مداوا ہے غزل مالک و مولا
ظاہر نہ سہی پر وہ قریں ہے رگِ جاں سے
شازیہ غزل
No comments:
Post a Comment