Friday, 2 July 2021

جب کبھی درد کی تصویر بنانے نکلے

 جب کبھی درد کی تصویر بنانے نکلے

زخم کی تہہ میں کئی زخم پرانے نکلے

چین ملتا ہے تِرے شوق کو پورا کر کے

ورنہ اے لختِ جگر! کون کمانے نکلے

وقت کی گرد میں پیوست تھے سب زخم مِرے

جب چلی تیز ہوا، لاکھ فسانے نکلے

یہ کسی طور بھی اللہ کو منظور نہیں

کہ تُو احسان کرے اور جتانے نکلے

پہلے نفرت کی وہ دیوار گِرائے احیا

پھر محبت کا نیا شہر بسانے نکلے


احیاالسلام بھوجپوری

احیاء بھوجپوری

No comments:

Post a Comment