Friday, 9 June 2023

بندگی یوں بھی ہوئی رات کی تنہائی میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


بندگی یوں بھی ہوئی رات کی تنہائی میں

میں نے اک نعت لکھی رات کی تنہائی میں

میرے سرکارؐ نے کیا مجھ پہ کرم فرمایا

دل کی آواز سنی رات کی تنہائی میں 

یوں گُہر باری ہوئی یادِ مدینہ میں کہ بس

آنکھ بہتی ہی رہی رات کی تنہائی میں

جس کو لے کر گئے قدسی بھی بصد ناز و نعم

ایسی اک مالا جپی رات کی تنہائی میں

خندَۂ صبح ملے عشقِ بلالیؓ و صہیبؓ 

اور ملے جذبِ قرنیؒ رات کی تنہائی میں

پیش کی درد سے بوصیری کے جیسے اک نعت

اور مِری بگڑی بنی رات کی تنہائی میں

یوں بھی فریاد نے آغوشِ اجابت پایا

غیبی تحسین ملی رات کی تنہائی میں

گنبدِ خضریٰ کے جلوؤں نے اثر ایسا کیا

زندگی سبز ہوئی رات کی تنہائی میں 

ہجر کے پودے عطا سارے اڑا ہی ڈالے

صر صرِ وصل چلی رات کی تنہائی میں


عطا اشرفی

No comments:

Post a Comment