عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
یہیں کہوں، جب تک بھی جیوں میں، صلّی اللّٰہ علیہ و سلّم
یہی پڑھوں میں، سنوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم
بہتے پانیوں کے سینے پر، ہنستے گلوں کے آئینے پر
انگشتِ خوشبو سے لکھوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم
چڑھتے دن کی سرگوشی میںِ، ڈھلتی شب کی خاموشی میں
ایک یہی آواز سنوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم
غارِ ذات کی تنہائی میں، اپنی روح کی گہرائی میں
شام و سحر یہ وِرد کروں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم
جہاں قلم بھی آنکھیں میچے، حرف و صدا رہ جاہیں پیچھے
کیسے اُنؐ کی نعت کہوں میں؟ صلی اللّٰہ علیہ و سلّم
لا موجود جہانوں میں سے، لا محدود زمانوں میں سے
ہر دم یہ آہنگ سنوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم
خوف میں عافیت افزا ہے، ہر اک درد کی یہ ہی دوا ہے
پاؤں اسی میں امن و سکوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم
ہر اک سانس درود اثر ہو، یہی وظیفہ شام و سحر ہو
جس میں سدا مشغول رہوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم
جسم سے جس دم روح جدا ہو، نبض ہو مدہم سانس اکھڑا ہو
لب پر ہو جس وقت مروں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم
مغزِ عبادت اُنؐ کی ثنا ہو، حرفِ نعت ہی حرف دعا ہو
یہی ریاض دعا مانگوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم
ریاض مجید
No comments:
Post a Comment