Friday, 9 June 2023

یہیں کہوں جب تک بھی جیوں میں صلی اللّٰہ علیہ و سلم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


یہیں کہوں، جب تک بھی جیوں میں، صلّی اللّٰہ علیہ و سلّم

یہی پڑھوں میں، سنوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم

بہتے پانیوں کے سینے پر، ہنستے گلوں کے آئینے پر

انگشتِ خوشبو سے لکھوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم

چڑھتے دن کی سرگوشی میںِ، ڈھلتی شب کی خاموشی میں

ایک یہی آواز سنوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم

غارِ ذات کی تنہائی میں، اپنی روح کی گہرائی میں

شام و سحر یہ وِرد کروں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم

جہاں قلم بھی آنکھیں میچے، حرف و صدا رہ جاہیں پیچھے

کیسے اُنؐ کی نعت کہوں میں؟ صلی اللّٰہ علیہ و سلّم

لا موجود جہانوں میں سے، لا محدود زمانوں میں سے

ہر دم یہ آہنگ سنوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم

خوف میں عافیت افزا ہے، ہر اک درد کی یہ ہی دوا ہے

پاؤں اسی میں امن و سکوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم

ہر اک سانس درود اثر ہو، یہی وظیفہ شام و سحر ہو

جس میں سدا مشغول رہوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم

جسم سے جس دم روح جدا ہو، نبض ہو مدہم سانس اکھڑا ہو

لب پر ہو جس وقت مروں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم

مغزِ عبادت اُنؐ کی ثنا ہو، حرفِ نعت ہی حرف دعا ہو

یہی ریاض دعا مانگوں میں، صلی اللّٰہ علیہ و سلّم


ریاض مجید

No comments:

Post a Comment