عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
یا رب ترے محبوبؐ کا جلوہ نظر آئے
اس نورِ مجسمﷺ کا سراپا نظر آئے
اے کاش کبھی ایسا بھی ہو خواب میں میرے
ہوں جس کی غلامی میں وہ آقاﷺ نظر آئے
روشن رہیں آنکھیں یہ مِری بعدِ فنا بھی
گر وقتِ نزع وہ شہِ والاﷺ نظر آئے
تا حشر مِری قبر میں ہو جائے اجالا
مرقد میں جو ان کا رُخ زیبا نظر آئے
جس در کا بنایا ہے گدا مجھ کو الہیٰ
اس در پہ کبھی کاش یہ منگتا نظر آئے
کس درجہ بنایا انہیں اللہ نے محبوبﷺ
ہر ایک کے دل کی وہ تمنا نظر آئے
آؤ کہ شمع نعتوں کی ہر سمت جلائیں
ہر گوشۂ ہستی میں اجالا نظر آئے
کس آنکھ نے دیکھی ہے مثال ان کی جہاں میں
سرکارﷺ تو کونین میں یکتا نظر آئے
کعبہ اے ریاض اس کو بنا لوں گا میں دل کا
گر نقشِ قدم مجھ کو نبیﷺ کا نظر آئے
ریاض الدین سہروردی
No comments:
Post a Comment