Saturday, 10 June 2023

لب پھر تری توصیف میں میں کھول رہا ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


لب پھر تِریؐ توصیف میں، میں کھول رہا ہوں

قرآں نے کہی بات جو، وہ بول رہا ہوں 

جو حرف یا جو لفظ تِری شان میں لکھوں 

میزانِ تفکّر پہ وہی تول رہا ہوں 

میرے لیے لڑتے ہیں شہنشاہِ زمانہ 

میں تیری غلامی سے ہی انمول رہا ہوں

میں قصر نہیں! دل میں بناتا ہوں مدینہ 

اس واسطے دیوانوں میں بہلول رہا ہوں

جن لوگوں نے دیدار کی تسبیح پڑھی ہے 

ان جیسے طلب گاروں کا کشکول رہا ہوں 

جس جا تو فرشتوں کو نہیں کوئی اجازت 

توفیقِ خداوندی سے میں بول رہا ہوں


عطا اشرفی

No comments:

Post a Comment