عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
عنایتوں کے شبستاں سے ہو کے وابستہ
چمک رہا ہے طلب گاروں کا مہِ خستہ
انہیں خبر تھی کہ اُمت کدھر سے گزرے گی
انہوںﷺ نے صاف کیا خار زار ہر رستہ
حضورؐ آپ کی سیرت سے منسلک یوں ہیں
ہو جیسے چادرِ یمنی میں ٹاٹ پیوستہ
ہوائے کُوچۂ جاناں کا خیر مقدم ہے
اٹھا کے لائی مدینے سے شعرِ بر جستہ
انہیںؐ کی ہاں میں دعاؤں کی مستجابی ہے
سب اگلے پچھلوں کی اُمید جن سے وابستہ
نظر غلافِ مزارِ رسولﷺ پر ٹھہری
مچل پڑے درِ اقدس پہ اشکِ خود رفتہ
وگرنہ کتنے خداؤں کو پُوجتے ہم بھی
عیاں ہوئی تو انہیںؐ سے وہ ذاتِ سر بستہ
سجی ہے ایک نشست اور بھی مدینے میں
مگر وہاں مجھے پڑھنی ہے نعت لب بستہ
انہیںؐ خبر تھی درختوں کو کاٹا جاتا ہے
وہ بیج بوتے رہے دِین کے پر، آہستہ
جنہوں نے راہوں میں کانٹے بچھائے تھے انؐ کی
عطا!! انہیں بھی نوازا کرم کا گلدستہ
عطا اشرفی
No comments:
Post a Comment