Monday, 16 August 2021

وہ بھی اب یاد کریں کس کو منانے نکلے

 وہ بھی اب یاد کریں کس کو منانے نکلے

ہم بھی یوں ہی تو نہ مانے تھے سیانے نکلے

میں نے محسوس کیا جب بھی کہ گھر سے نکلا

اور بھی لوگ کئی کر کے بہانے نکلے

آج کی بات پہ میں ہنستا رہا، ہنستا رہا

چوٹ تازہ جو لگی درد پرانے نکلے

ایک شطرنج نما زندگی کے خانوں میں

ایسے ہم شاہ جو پیادوں کے نشانے نکلے

تُو نے جس شخص کو مارا تھا سمجھ کر کافر

اس کی مٹھی سے تو تسبیح کے دانے نکلے

کاش ہو آج کچھ ایسا وہ مِرا مالک دل

میرے دل سے ہی مِرے دل کو چرانے نکلے

آپ کا درد ان آنکھوں سے چھلکتا کیسے

میرے آنسو تو پیازوں کے بہانے نکلے

میں سمجھتا تھا تجھے ایک زمانے کا مگر

تیرے اندر تو کئی اور زمانے نکلے

لاپتہ آج تلک قافلے سارے ہیں امیر

جو تِرے پیار میں کھو کر تجھے پانے نکلے


عامر امیر

No comments:

Post a Comment