اس کی آنکھوں میں اک سوال سا تھا
میرے دل میں کوئی ملال سا تھا
دُھل گیا آنسوؤں میں سارا وجود
عشق میں یہ عجب کمال سا تھا
جسم کی ڈال پر جھُکا تھا خواب
روح سرشار، دل نہال سا تھا
گفتگو کر رہی تھی خاموشی
ہجر کی راہ میں وصال سا تھا
خواہشیں ہر گھڑی عروج پہ تھیں
وقت کو ہر گھڑی زوال سا تھا
میں بھی تھی آشنا روایت سے
اس کو بھی ضبط میں کمال سا تھا
خواب در خواب تھیں ملاقاتیں
دردِ دل وجہِ اندمال سا تھا
آئینہ بن گیا ہے میرے لیے
ایک چہرہ کہ بے مثال سا تھا
ماہ طلعت زاہدی
No comments:
Post a Comment