Friday, 19 March 2021

گیلی مٹی سے بدن بنتے ہوئے عمر لگی

 گیلی مٹی سے بدن بنتے ہوئے عمر لگی

مجھ کو صحرا سے چمن بنتے ہوئے عمر لگی

پختگی فکر میں یک لخت کہاں آتی ہے؟

میری سوچوں کو سخن بنتے ہوئے عمر لگی

ابنِ آدم کی ہوس سے ملی صدیوں میں نجات

بنتِ حوا کو دلہن بنتے ہوئے عمر لگی

فرق حالانکہ بہت تھوڑا ہے دونوں میں مگر

سر کے آنچل کو کفن بنتے ہوئے عمر لگی

ہم تو سمجھے تھے وہ مہکے گا گُلوں کی مانند

پر اسے غنچہ دہن بنتے ہوئے عمر لگی

چند لمحوں میں تغیّر یہ نہیں آیا ہے

چھل کو دنیا کا چلن بنتے ہوئے عمر لگی

میں تو بس اتنا کہوں گا مِری مایوسی کو

شاد آشا کی کِرن بنتے ہوئے عمر لگی 


شمشاد شاد

No comments:

Post a Comment