انسانیت کا ریپ
گھوم رہے ہیں رالیں ٹپکاتے ظالم حیوان
رانوں میں لٹکائے اپنی وحشت کا سامان
ان کے ذہن میں روز و شب ہے صرف یہی اک دھیان
کوئی عورت ہاتھ آ جائے، زندہ یا بے جان
زندہ باد، اے اسلامی جمہوریۂ پاکستان
اس بستی کے لوگ تو بِلّی کو سہلاتے ہیں
ٹافی کھاتی چھوٹی بچی کو کھا جاتے ہیں
قبر سے مُردہ عورت تک کو بھی لے آتے ہیں
اس بستی میں چکلوں جیسے ہیں اب قبرستان
زندہ باد، اے اسلامی جمہوریۂ پاکستان
یہاں بھکارن بھی آئے تو ہنس کر بولیں گے
آنکھوں ہی آنکھوں میں اُس کا جسم ٹٹولیں گے
اور خیالوں میں اُس کا ہر پردہ کھولیں گے
اک سِکہ دے کر مانگیں گے جسم کا ہر امکان
زندہ باد، اے اسلامی جمہوریۂ پاکستان
رحمان فارس
No comments:
Post a Comment