دوزخ سے متصل رہی خلدِ برین بھی
مجھ کو جہاں کا وہم تھا تیرا یقین بھی
ایسے ہی محوِ رقص رہے گی تو دیکھنا
چکرا کے گر پڑے گی کسی دم زمین بھی
میں نے تِرے لحاظ میں ٹُھکرا دیا جسے
وہ با ادب تھی اور نہایت حسین بھی
محفل میں بیٹھ کر بھی اکیلے ہیں یعنی ہم
شہری ہیں ایک وقت میں صحرا نشین بھی
تیری زبان کو ہی نہ توفیق ہو سکی
اب ورنہ بات کرنے لگی ہے مشین بھی
کیوں بانٹتا ہے روشنی یکساں ہر ایک کو
معلوم کیجیے ذرا سورج کا دین بھی
آفتاب نواب
No comments:
Post a Comment