میں مانتا ہوں
تم خواب حسینؑ کے وارث ہو
میں جانتا ہوں
تم پیاس کی شدت میں بھی سراب کو دریا نہیں کہنے والے
تسلیم مجھے
جس رہ میں نشیب و فراز نہیں
وہ راہ جنوں کی راہ نہیں
یہ راز مگر بتلاؤ مجھے
تلوار کا سایہ سر کی بلندی کے درپے ہے
کوفۂ زیست میں قطرۂ آب امید نہیں ہے پھر بھی
شہادت کے اعزاز کے لائق تم میں کوئی نہیں ہے
شہریار خان
No comments:
Post a Comment