Monday, 16 August 2021

ہاں سنبھال کر رکھا ہے

 سنبھال کر رکھا ہے


ہاں

سنبھال کر رکھا ہے

دل کے کونے میں تیرا دھیان

تیری پرچھائی سے ملنے والا گیان


ہاں

سنبھال کر رکھا ہے

اک آخری کربناک منظر

دو برستی آنکھوں کا دُھندلا منظر


ہاں

سنبھال کر رکھا ہے

پہلی بار کا ٹھٹھک کر رُکنا

آخری بار کا سسک کر مُڑنا


ہاں

سنبھال کر رکھا ہے

تیرا دان کردہ درد کا گھیرا

تُجھ سے ملاتا ورد کا پھیرا


فیصل ملک

No comments:

Post a Comment