سنبھال کر رکھا ہے
ہاں
سنبھال کر رکھا ہے
دل کے کونے میں تیرا دھیان
تیری پرچھائی سے ملنے والا گیان
ہاں
سنبھال کر رکھا ہے
اک آخری کربناک منظر
دو برستی آنکھوں کا دُھندلا منظر
ہاں
سنبھال کر رکھا ہے
پہلی بار کا ٹھٹھک کر رُکنا
آخری بار کا سسک کر مُڑنا
ہاں
سنبھال کر رکھا ہے
تیرا دان کردہ درد کا گھیرا
تُجھ سے ملاتا ورد کا پھیرا
فیصل ملک
No comments:
Post a Comment