Thursday, 3 December 2020

زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے

 زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے

خوابوں کی کوئی دنیا آباد کریں پھر سے

مدت ہوئی جینے کا احساس نہیں ہوتا

دل ان سے تقاضا کر، بیداد کریں پھر سے

مجرم کے کٹہرے میں پھر ہم کو کھڑا کر دو

ہو رسمِ کہن تازہ، فریاد کریں پھر سے

اے اہلِ جنوں! دیکھو زنجیر ہوئے سائے

ہم کیسے انہیں سوچو آزاد کریں پھر سے

اب جی کے بہلنے کی ہے ایک یہی صورت

بیتی ہوئی کچھ باتیں، ہم یاد کریں پھر سے


شہریار خان

No comments:

Post a Comment