آنکھ کو روشنی ضروری ہے
مجھ کو اک تُو بڑی ضروری ہے
موت بہتر تھی تجھ سے پہلے اب
مجھ کو یہ زندگی ضروری ہے
تیری باتوں میں لطف ہے، لیکن
چائے کی چُسکی بھی ضروری ہے
میری باتوں پہ غور کیا کرنا
بات اس کی بڑی ضروری ہے
آپ گلشن میں کیوں نہیں آتے؟
پھولوں کو تازگی ضروری ہے
گھوم پھر آیا ہوں زمانے میں
یار! اس کی گلی ضروری ہے
پھر سے شہزاد غم ملے کوئی
آنکھ میں کچھ نمی ضروری ہے
شہزاد جاوید
No comments:
Post a Comment