بلائیں ہماری، صدائیں ہماری
کوئی ہم سے لے لے دعائیں ہماری
نہ جانے سمائی ہے کیا اس کے من میں
ہمیں دے رہا ہے سزائیں ہماری
بہت سن چکے ہم زمانے کے قصے
کہانی ہمیں اب سنائیں ہماری
مہکنے لگے ہیں ہم اڑنے لگے ہیں
ہمیں لگ رہی ہیں ہوائیں ہماری
بلائے محبت کی لی ہیں بلائیں
کوئی آئے لینے بلائیں ہماری
علاج اپنا خود ہی وہ کر لے گا صاحب
مسیحا کو حالت دکھائیں ہماری
چراغوں سے گھر میں دھواں ہی دھواں ہے
سنیں شمع گھر میں جلائیں ہماری
بھلی لگتی ہیں، پیاری سی لگتی ہیں ناز
تمہارے لبوں پر خطائیں ہماری
ناز ہاشمی
ایس ناز
No comments:
Post a Comment