پنچھی نے چھت پہ شور مچایا ہے صدقہ دے
مدت کے بعد شخص وہ آیا ہے صدقہ دے
دیکھا مجھے فقیر نے بے ساختہ کہا
تجھ پر کسی کی یاد کا سایہ ہے صدقہ دے
ٹھوکر لگا رہے ہیں جو اپنے تو شکر کر
جینے کا ڈھنگ تجھ کو سکھایا ہے صدقہ دے
یہ بھی ہے دل کی بات سنانے کا اک ہنر
شاعر تجھے خدا نے بنایا ہے صدقہ دے
مشکل گھڑی میں یاد خدا کی جو آگئی
گرتے ہوئے کو اس نے اٹھایا ہے صدقہ دے
شہزاد تیرے عیب وہی جانتا ہے بس
اللہ نے سارا بھید چھپایا ہے صدقہ دے
شہزاد جاوید
No comments:
Post a Comment