Saturday, 19 June 2021

پنچھی نے چھت پہ شور مچایا ہے صدقہ دے

 پنچھی نے چھت پہ شور مچایا ہے صدقہ دے

مدت کے بعد شخص وہ آیا ہے صدقہ دے

دیکھا مجھے فقیر نے بے ساختہ کہا

تجھ پر کسی کی یاد کا سایہ ہے صدقہ دے

ٹھوکر لگا رہے ہیں جو اپنے تو شکر کر

جینے کا ڈھنگ تجھ کو سکھایا ہے صدقہ دے

یہ بھی ہے دل کی بات سنانے کا اک ہنر

شاعر تجھے خدا نے بنایا ہے صدقہ دے

مشکل گھڑی میں یاد خدا کی جو آگئی

گرتے ہوئے کو اس نے اٹھایا ہے صدقہ دے

شہزاد تیرے عیب وہی جانتا ہے بس

اللہ نے سارا بھید چھپایا ہے صدقہ دے


شہزاد جاوید

No comments:

Post a Comment