چپ چاپ خموشی کی صدا چاٹ رہی ہے
مجھ کو تِری دوری کی بلا چاٹ رہی ہے
برسات مجھے راس تھی جب ساتھ تِرا تھا
اے دوست مجھے اب یہ گھٹا چاٹ رہی ہے
شکوہ نہیں کرتا وہ کوئی درد کا مارا
جس جس کو زمانے میں وفا چاٹ رہی ہے
کس کام کی ہے تیرے بنا لمبی عمر بھی
مجھ کو تِری ہر ایک دعا چاٹ رہی ہے
ہے وقت ابھی شہزاد کہ بچھڑوں کو پکاریں
ہم کو تو فقط اپنی انا چاٹ رہی ہے
شہزاد جاوید
No comments:
Post a Comment