میں انشا جی کی شاعری کی وہ اچھی لڑکی نہیں ہوں
مجھے جاننے پہچاننے کا دعویٰ ہرگز مت کرنا
میں انشا جی کی شاعری کی وہ اچھی لڑکی نہیں ہوں
کہ جس کے لانبے گیسوؤں کا چرچا ہے
نہ میں فراز کی غزل سے ملتی حسینہ ہوں
کہ جس کے بات کرنے سے پھول جھڑتے ہیں
نہ ہی جون کی وہ فارہہ ہوں
جو فرقت میں سہیلیوں سے ملنا چھوڑ دے
نہ میں کسی کو ایسی عزیز تر ہوں کہ
فیض جیسے معجزوں پہ یقین نہ کرتے ہوئے بھی
لحد سے اٹھ کر آنا چاہیں
میں تو گلزار کی شاعری میں جیتی لڑکی ہوں
جسے بے پناہ حسن نہ بھی ملا ہو
سادگی انتہا کی عطا ہوئی ہو
جو کسی کیفے میں بیٹھ کر
کافی یا چائے کے تلخ گھونٹ بھر کر بھی میٹھا بولے
جس کا پاؤں جھٹک کر چلنا بھی
خوبصورت ادا مان لیا جائے
جو جب مرضی ایک سو سولہ چاند کی راتیں
بلا جھجھک واپس مانگ لے
شاعری میں لفظوں کی زیبائش سے آراستہ ہو کر بھی
اپنی سادگی قائم رکھتی ہو
رابعہ ساجد
No comments:
Post a Comment