انشا جی رکو
انشا جی رکو اب دیکھ ہی لو
اس شہر میں کیا کیا ہوتا ہے
جس شہر کی کچی بستی میں
مہنگائی کا مُجرا جاری ہے
اور خوف دلوں پر طاری ہے
جس شہر کے اکثر لوگوں کے
چہروں پہ اداسی چھائی ہے
اور جان لبوں پر آئی ہے
جس شہر کا سارا کالا دھن
اب دودھ سے دھویا جائے گا
اور ڈاکو چور لٹیرا بھی
اب باعزت کہلائے گا
انشا جی رکو پر یاد رہے
اس شہر میں رہنے والوں کو
خاموش ہی رہنا پڑتا ہے
ہر دور کے ظالم حاکم کا
ہر ظلم ہی سہنا پڑتا ہے
جو بولے گا وہ مجرم ہے
جو چپ ہے سب کا محرم ہے
انشا جی سنو اور خوب سُنو
سب راز دبا لو سینے میں
جو دیکھا ہے وہ منظر بھی
گر آنکھ سے باہر آیا تو
اک آن میں پکڑے جاؤ گے
انشا جی رکو اک گیت لکھو
اور آقاؤں کے نام کرو
اس شہر میں ہی بسرام کرو
احمد نعیم ارشد
No comments:
Post a Comment