Wednesday, 16 December 2020

بچھڑنے والے تمہارے جانے کے بعد ہم پر

بچھڑنے والے


تمہارے جانے کے بعد ہم پر

دکھوں کے اتنے پہاڑ ٹوٹے کہ کیا بتائیں

قسم خدا کی ہم اتنے تنہا ہوئے کہ ہم کو

خود اپنا سایہ تلک میسر نہیں ہوا ہے

بچھڑنے والے

بچھڑ کے تم سے قدم قدم پر یہی لگا

ہم بغیر مقصد کے جی رہے ہیں

ہمارے ہونٹوں کی مسکراہٹ کی نعش

ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے دفن کی ہے

پھر اس پہ روئے اور اتنا روئے کہ خون تھوکا

بچھڑنے والے

بچھڑ کے جینے میں مشکلیں ہی بہت تھیں

ورنہ سہولتوں سے جو کام ہوتے رہے ہیں

وہ تو کیے ہیں میں نے

بچھڑنے والے

تجھے خبر ہی نہیں ہے لیکن

جدائی اک آگ ہے اور اس آگ نے مجھے

اس قدر جلایا کہ اب تو میری

شناختی علامتیں بھی باقی نہیں رہی ہیں

اداسیوں نے دلِ فسردہ کے منہ پہ

اتنے طمانچے مارے کہ اب تو یہ ٹھیک سے

دھڑک بھی نہیں رہا ہے

بچھڑنے والے

بچھڑ کے تجھ سے یہاں پہ

جتنے بھی دن گزارے ہیں ہم نے

اک اک قدم پہ رنج و الم اٹھائے

عذاب جھیلے، سزائیں پائیں

خوشی تو اک بھی نہیں ملی ہے

کہ لمحہ بھر بھی سکون سے رہ نہیں سکے ہم

بڑی اذیت میں کٹ رہی ہے یہ زندگانی

بچھڑنے والے

جو ہو سکے تو پلٹ کے آ جا

کہ اس سے آگے اکیلے جینا محال ہے اب

ہماری جاں کا سوال ہے اب

وگرنہ کچھ دن کے بعد ہم سے گلہ نہ کرنا

کہ ہم نے دنیا سے کوچ کرنے سے پہلے

تم کو خبر نہیں کی

یہ زندگی کیوں بسر نہیں کی؟


جاوید مہدی 

No comments:

Post a Comment