بچھڑنے والے
تمہارے جانے کے بعد ہم پر
دکھوں کے اتنے پہاڑ ٹوٹے کہ کیا بتائیں
قسم خدا کی ہم اتنے تنہا ہوئے کہ ہم کو
خود اپنا سایہ تلک میسر نہیں ہوا ہے
بچھڑنے والے
بچھڑ کے تم سے قدم قدم پر یہی لگا
ہم بغیر مقصد کے جی رہے ہیں
ہمارے ہونٹوں کی مسکراہٹ کی نعش
ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے دفن کی ہے
پھر اس پہ روئے اور اتنا روئے کہ خون تھوکا
بچھڑنے والے
بچھڑ کے جینے میں مشکلیں ہی بہت تھیں
ورنہ سہولتوں سے جو کام ہوتے رہے ہیں
وہ تو کیے ہیں میں نے
بچھڑنے والے
تجھے خبر ہی نہیں ہے لیکن
جدائی اک آگ ہے اور اس آگ نے مجھے
اس قدر جلایا کہ اب تو میری
شناختی علامتیں بھی باقی نہیں رہی ہیں
اداسیوں نے دلِ فسردہ کے منہ پہ
اتنے طمانچے مارے کہ اب تو یہ ٹھیک سے
دھڑک بھی نہیں رہا ہے
بچھڑنے والے
بچھڑ کے تجھ سے یہاں پہ
جتنے بھی دن گزارے ہیں ہم نے
اک اک قدم پہ رنج و الم اٹھائے
عذاب جھیلے، سزائیں پائیں
خوشی تو اک بھی نہیں ملی ہے
کہ لمحہ بھر بھی سکون سے رہ نہیں سکے ہم
بڑی اذیت میں کٹ رہی ہے یہ زندگانی
بچھڑنے والے
جو ہو سکے تو پلٹ کے آ جا
کہ اس سے آگے اکیلے جینا محال ہے اب
ہماری جاں کا سوال ہے اب
وگرنہ کچھ دن کے بعد ہم سے گلہ نہ کرنا
کہ ہم نے دنیا سے کوچ کرنے سے پہلے
تم کو خبر نہیں کی
یہ زندگی کیوں بسر نہیں کی؟
جاوید مہدی
No comments:
Post a Comment