Wednesday, 16 December 2020

کر سکی جب نہ تم پر اثر شاعری

 کر سکی جب نہ تم پر اثر شاعری

میں نے بس چھوڑ دی بے اثر شاعری

میرے شعروں سے نظریں چراتے ہو کیوں

میں تو کرتی ہوں بس بے ضرر شاعری

دل کی حسرت کو آہوں کو کرتی بیاں

میری بے تابیوں کا ثمر شاعری

عہد آدھے، ادھورے سے کچھ خواب ہیں

کچھ جفا کچھ وفا کا سحر شاعری

کبھی لکھتے ہوئے کبھی پڑھتے ہوئے

دل دُکھائے میرا، کس قدر شاعری

غم کے اظہار کا ہے سلیقہ سخن

درد لکھنے کا اعلیٰ ہنر شاعری

میں چھپوں دل سے، دل میرا مجھ سے چھپے

مجھ کو مجھ سے کرے با خبر شاعری

راز اندر کے سب کو بتانے لگی

ہو گئی کس قدر، پُر خطر شاعری

مجھ سے لکھنے کی جب ہر وجہ چھِن گئی

کیسے کرتی رہوں عمر بھر شاعری

میں تھی تنہا، میں تنہا ہوں، تنہا سدا

میری رہبر، میری ہمسفر شاعری

کوئی ہمراز میرا نہ اس کے سوا

میری محرم میری چارہ گر شاعری


عنبرین خان

No comments:

Post a Comment