تیری طلب میں رنج اٹھانے کا ڈر نہیں
میں وہ ہدف ہوں جس کو نشانے کا ڈر نہیں
ہوں اپنی انتقام کی خُو سے ڈرا ہوا
دھوکہ تمہارے ہاتھ سے کھانے کا ڈر نہیں
ڈرہے کہ لاجواب نہ کر دوں کہیں اسے
جس کو مرے سوال اٹھانے کا ڈر نہیں
ڈرتا ہوں اس کے بعد کی وارفتگی سے میں
اک دل ربا کے ہاتھ چھڑانے کا ڈر نہیں
ڈر ہے کہ ڈر نہ جائوں کہیں اپنے آپ سے
تیمور میرے دل میں زمانے کا ڈر نہیں
تیمور ذوالفقار
No comments:
Post a Comment