Wednesday, 16 December 2020

تیری طلب میں رنج اٹھانے کا ڈر نہیں

 تیری طلب میں رنج اٹھانے کا ڈر نہیں

میں وہ ہدف ہوں جس کو نشانے کا ڈر نہیں

ہوں اپنی انتقام کی خُو سے ڈرا ہوا

دھوکہ تمہارے ہاتھ سے کھانے کا ڈر نہیں

ڈرہے کہ لاجواب نہ کر دوں کہیں اسے

جس کو مرے سوال اٹھانے کا ڈر نہیں

ڈرتا ہوں اس کے بعد کی وارفتگی سے میں

اک دل ربا کے ہاتھ چھڑانے کا ڈر نہیں

ڈر ہے کہ ڈر نہ جائوں کہیں اپنے آپ سے

تیمور میرے دل میں زمانے کا ڈر نہیں


تیمور ذوالفقار

No comments:

Post a Comment