مجھ کو تنہائی کا احساس نہ ہونے دینا
تم کسی کو بھی مرے پاس نہ ہونے دینا
رہنا انجان سی، رکھنا نظر انداز مجھے
عام سا ہوں میں مجھے خاص نہ ہونے دینا
یہ ضروری ہے ارادوں کو یقیں سا رکھنا
حسرتوں کو کبھی بے آس نہ ہونے دینا
تم جھگڑتی ہی چلی جانا، خفا ہی رہنا
رُت محبت کی ہمیں راس نہ ہونے دینا
بھر تو لینا مجھے بانہوں میں مگر دھیان رہے
اپنے کپڑوں میں مری باس نہ ہونے دینا
وجیہہ ثانی
No comments:
Post a Comment