Wednesday, 16 December 2020

گوشے بدل بدل کے ہر ایک رات کاٹ دی

 گوشے بدل بدل کے ہر ایک رات کاٹ دی

کچے مکاں میں اب کے بھی برسات کاٹ دی

وہ سر بھی کاٹ دیتا تو ہوتا نہ کچھ ملال

افسوس یہ ہے اس نے میری بات کاٹ دی

حالانکہ ہم ملے تھے بڑی مدّتوں کے بعد

اوقات کی کمی نے ملاقات کاٹ دی

جب بھی ہمیں چراغ میسر نہ آ سکا

سورج کے ذکر سے شبِ ظلمات کاٹ دی

دل بھی لہو لہان ہے، آنکھیں بھی ہیں اداس

شاید انا نے شہ رگِ جذبات کاٹ دی

جادوگری کا کھیل ادھورا ہی رہ گیا

درویش نے شبیہ طلسمات کاٹ دی

ٹھنڈی ہوائیں، مہکی فضا، نرم چاندنی

شب تو بس اک تھی، جو تیرے ساتھ کاٹ دی


طاہر فراز

No comments:

Post a Comment