شہر بھی تمہارا تھا لوگ بھی تمہارے تھے
اس وجہ سے عشق میں اب کی بار ہارے تھے
ایسا کیا ہوا کہ تُو نے ہم سے نظریں پھیر لیں
ہم تو وہ تھے جو تجھے جان سے بھی پیارے تھے
قسمتوں نے لہروں میں ساتھ نہ دیا، ورنہ
ڈوبنے والے نے کتنے ہاتھ پاؤں مارے تھے
عشق میں منافع اور خوشیاں سب اسی کی تھیں
ہمارے حصے میں تمام درد اور خسارے تھے
تیری صورت بھا گئی تھی میری سرد آنکھوں کو
ورنہ اس جہاں میں کیا کوئی کم نظارے تھے
ہم نہیں بھول سکے ہمیں محبت جو تھی
تیرا کیا، تُو نے تو دن گزارے تھے
ہاتھ بھنور سے نہ ملاتے تو اور کیا کرتے
دریا کا وسط تک تھا بہت دور کنارے تھے
تجھے تعبیر مل گئی ہم سے پہلے، ورنہ
زندگی تجھے جینے کے خواب تو ہمارے تھے
تیرے بعد کون کرے گا نگرانی ان کی
یہ جو آج تلک تیرے سہارے تھے
جاوید مہدی
No comments:
Post a Comment