رہِ شوق میں کوئی راہ بر، کوئی رازداں نہیں ہو سکا
تُو بھی بے نشان سا رہ گیا میں بھی جاوداں نہیں ہو سکا
تِری ریزہ ریزہ سی خواہشیں مِرے نفس مجھکو نگل گئیں
تِرے دائروں سے رہا کبھی، مِرا کارواں نہیں ہو سکا
ابھی میرے سوگ کی بزم کو کسی اور شام پہ ٹال دو
ابھی میرے درد سے آشنا مِرا نوحہ خواں نہیں ہو سکا
وہ رفاقتوں کے جو خواب تھے یہ نہ پوچھ کیسے بکھر گئے
وہ جو آ سکا نہ زمین پر، تو میں آسماں نہیں ہو سکا
میں غریبِ شہر تھا جیتتا بھلا کیسے پیار کی بازیاں
تُو امیرِ شہر تھا تُو بتا تُو بھی کامراں نہیں ہو سکا
دائم بٹ
No comments:
Post a Comment