کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
کوئی بے نام سی وحشت
مجھے یوں گھیر لیتی ہے
ہر اک شے زہر لگتی ہے
کوئی چہرہ، کوئی پیکر مجھے اچھا نہیں لگتا
نہایت دلربا، بےحد حسیں، رنگین قُربت بھی
مجھے بے کیف کرتی ہے
مجھے اپنی پسندیدہ وہ اک نمکین سی صورت
پھیکی پھیکی سی لگتی ہے
تناظر ہی بدل جاتا ہے
میری خوش نگاہی، خوش مزاجی کا
میرے سننے، میرے چکھنے، میرے محسوس کرنے کی
ہر اک حِس مر سی جاتی ہے
بہت مقبول میری خوش کلامی بھی
نہایت راس و مجہول لہجہ اوڑھ لیتی ہے
پسندیدہ میرا مشروب
یعنی آبِ سرد و سادہ شیریں بھی
سیرابی نہیں دیتا
ظروفِ خوش نما میں بھانپ دیتے
میری ماں کے مہرباں اور طاق ہاتھوں سے بنے
لذت بھرے کھانوں کی رغبت
اٹھ سی جاتی ہے
کسی کے دستِ نازک سے بنی
سٹرونگ کافی بھی
مجھے اپنے اناڑی ہاتھ کی
چائے سی لگتی ہے
عجب سفّاک وحشت ہے
میرے دل کی لُغت سے
لفظ خوش کے
جتنے بھی ہیں لاحقے اور سابقے
سب چھین لیتی ہے
میں اس وحشت سے گھبرا کر
نشاطِ شعر و نغمہ میں
پناہ لینے کو آتا ہوں
مگر اک بے کلی
اک جان لیوا بے کلی ڈستی ہی رہتی ہے
نہایت سادہ پُر وقار لہجے میں
بہتر میر کے نشتر
وہ دل سوزی، المناکی
مسلسل آہ و گریہ یاس و حرماں
کچھ بھی تو مائل نہیں کرتے
میری وحشت کے قاتل زہر کو زائل نہیں کرتے
مجھے غالب کی عمدہ شاعری
بھرپورشوخی، دل نوازی، فلسفہ، گہرائی
سب بے معنی سے لگتے ہیں
تعجب ہے کہ حسرت کا بہت دلکش تغزل بھی
میرے دل کو نہیں چُھوتا
جگر کی عشق میں ڈوبی ترنم ریز غزلیں بھی
محبت کا نشہ طاری نہیں کرتیں
مجھے ساحر کی دل کو آنچ دیتی شاعری
بے زار کرتی ہے
ہمارے فیض صاحب کے بہت مدہم
سُلگتے نرم لہجے کی کسک یونہی سی لگتی ہے
میں اپنے دل سے اکثر پوچھتا ہوں
اے دلِ وحشی
یہ عالم کیسا عالم ہے؟
یہ وحشت کیسی وحشت ہے؟
مجھے کیوں گھیر لیتی ہے؟
بدن میں گونجتی ہے
میرے لہو میں سنسناتی ہے
یہ وحشت کیسی وحشت ہے؟
کہاں سے ہو کے آتی ہے؟
یہ کس رحلت کا نوحہ ہے؟
یہ کس حسرت کا حاصل ہے؟
گزشتہ شب یہی وحشت
میرے دل پر مسلط تھی
مسلسل کروٹیں تھیں
جان لیوا بے کلی سی تھی
اچانک دل کی بے ترتیب دھڑکن نے
سکوتِ شب کو یوں توڑا
سنو ہارے ہوئے انساں
بھلا کب تک تمہاری خود فریبی
تم کو اس وحشت میں رکھے گی؟
جنہیں تم زندگی سے بے دخل کر کے
بظاہر فاتحانہ شان سے اِتراتے پھرتے ہو
ابھی تک ذہن و دل پر روح پر قبضہ انہی کا ہے
یہ وحشت اک کسک ہے
گمشدہ لوگوں کے کھونے کی
یہ وحشت ہی سبب ہے
اس طرح بے اشک رونے کی
خلیل اللہ فاروقی
No comments:
Post a Comment