Sunday, 15 August 2021

گلاب سمجھا ہوا تھا جن کو وہ خار نکلے

 گلاب سمجھا ہوا تھا جن کو وہ خار نکلے

ہمارے دشمن ہمارے اپنے ہی یار نکلے

کبھی کبھی درد دل میں نکلے تو یوں لگے ہے

کہ جیسے میرے بدن سے کچھ آر پار نکلے

وہ لوگ جو خود کو ضبط کا رب بتا رہے تھے

پڑی جو مشکل تو ایک جھٹکے کی مار نکلے

میں حق پہ ہوں جان کر بھی کوئی نہیں مِرے ساتھ

مخالفت میں مِری مگر بے شمار نکلے

اسی کے دل پر اثر نہیں ہو سکا وگرنہ

ہماری آنکھوں سے اشک تو بار بار نکلے

ہماری قسمت میں ڈوبنا لکھ دیا گیا تھا

وگرنہ جو لوگ ساتھ تھے وہ تو پار نکلے

میں چاہتا ہوں تو مجھ پہ بالکل نہ جائے بیٹا

میں چاہتا ہوں کہ تو عبادت گزار نکلے

زباں نہیں ساتھ دے سکی میرا مہدی ورنہ

مِری تو کوشش یہی تھی دل کا غبار نکلے


جاوید مہدی

No comments:

Post a Comment