Sunday, 15 August 2021

یوں ہے ترے خیال سے اشعار کا وجود

 یوں ہے ترے خیال سے اشعار کا وجود

جیسے ہے اینٹ، اینٹ سے دیوار کا وجود

تخلیق یوں تو حکم سے کُن کے ہوئی مگر

تزئین کائنات ہے سرکارﷺ کا وجود

قربت کے اک حصار نے گھیرا تو یوں لگا

جیسے بہشت میں ہو گنہ گار کا وجود

پرکار کا وجود ہے نقطے کا یہ نشان

نقطے کا یہ نشان ہے پرکار کا وجود

ہے آپ کے خیال میں سانسیں مِری رواں

دیوار سے ہے سایۂ دیوار کا وجود

تکیے تلے سمیٹ کے رکھتا ہوں خام خواب

بُنتا ہوں روز رات کو دو چار کا وجود

فیضان دیکھ سکتی نہیں ہے ہر ایک آنکھ

ابہام میں رکھا ہوا آثار کا وجود


فیضان فیضی

No comments:

Post a Comment