کیا سناؤں دلِ مضطر کا فسانہ تم کو
میں نے چاہا تھا کبھی ایک زمانہ تم کو
یہ جو تم عید پہ بھی آتے نہیں لوٹ کے گھر
کوئی چھٹی کا نہیں ہوتا بہانہ تم کو
بسترِ مرگ پہ ماں تھی تو نہ تھے سامنے تم
بہت ہی مہنگا پڑا ہے چلے جانا تم کو
ایک کمرہ ہے کرائے کا یہ بازاری غذا
شہر میں کیسے ملے شاہی ٹھکانہ تم کو
آخری خط کو پڑھو اس میں ملے گا ماہم
بھول جانے کا اسے کوئی بہانہ تم کو
ماہم شاہ
No comments:
Post a Comment