Thursday, 8 April 2021

تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں

 تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں

اور اس ترکِ تعلق کی وضاحت بھی نہیں

یاد میراث ہے یادیں ہی امانت ہیں مِری

وہ تو محفوظ ہیں اب ان کی عنایت بھی نہیں

جب مِری گردش دوراں سے ملاقات ہوئی

ہنس کے بولے تجھے حاجات کفایت بھی نہیں

تلخ یادوں کا دفینہ ہے یہ معصوم سا دل

تلخ یادوں سے ہمیں کوئی شکایت بھی نہیں

آصفہ صرف ہے کہنے کے لیے دل میرا

اب مگر دل پہ مِرے میری حکومت بھی نہیں


آصفہ زمانی

No comments:

Post a Comment