Thursday, 8 April 2021

رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کا

 رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کا

چاہتے جسے ہم ہیں وہ نہیں ہے چاہت کا

جس نے ہجر کاٹا ہے بس وہ جان سکتا ہے

زخم سِل نہیں سکتا درد ہے وہ شدت کا

آنکھ مر تو جاتی ہے جینے کی تمنا میں 

اور وہ نہیں مرتا جو ہے خواب حسرت کا 

جو لکھا لکیروں میں اس کو پورا ہونا ہے 

وقت ٹل نہیں سکتا ہر گھڑی مصیبت کا 

صرف قسمیں وعدے ہیں اور وقت پڑنے پر 

ساتھ بھی نہیں دیتا اب کوئی محبت کا 


ماہم شاہ

No comments:

Post a Comment