Saturday, 12 June 2021

کس کی آرزو تھی میں کس کی ہو گئی ہوں

 عورت نامہ


کس کی آرزو تھی میں 

کس کی ہو گئی ہوں میں 

کہ خود کو بھی نہیں ملتی 

کہیں تو کھو گئی ہوں میں 

یہی تھی چاہتی کہنا 

کچھ اور ہی کہہ گئی ہوں میں 

فرائض تیرے پرچے میں 

صفِ اول رہی ہوں میں 

رہینِ عاشقی ہوں میں 

مسلسل ٹکڑوں میں جی کر 

مسلسل مر رہی ہوں میں 

ہے سب سے اتفاق اپنا 

کہ خود سے لڑ رہی ہوں میں 

یہ عزت بوجھ ہے شاید 

جہاں پر دب گئی ہوں میں 

ہر اک شب جاگتے گزری 

کہ سونے کب گئی ہوں میں 

سدا تہذیب بھی ہوں میں 

سدا تحریک بھی ہوں میں 

کبھی تو غور تو کر لے 

کہیں تفریق بھی ہوں میں 

کبھی بیزار بھی ہوں میں 

کبھی غمخوار بھی ہوں میں 

اگر کچھ وقت پڑ جائے 

سنو تلوار بھی ہوں میں 

کھڑی ہے جو کہ طوفاں میں 

وہی چٹان بھی ہوں میں 

مکمل ایک نازک سا 

کوئی گلدان بھی ہوں میں 

اے ابنِ آدم داور 

خیال بنتِ حوا کر


ماہم شاہ

No comments:

Post a Comment