Saturday, 12 June 2021

اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرف

 اے بد گماں تِرا ہے گماں اور کی طرف

میرا تِرے سوا نہیں دھیاں اور کی طرف

ناوک مجھے رقیب کو برچھی لگائیے

تیر اس طرف چلے تو سناں اور کی طرف

مجھ کو سنا کے غیر کے اوپر پلٹ پڑو

پلٹو جو گفتگو میں زباں اور کی طرف

حور و پری پہ کیا ہے ہمارا سوائے یار

دل اور کی طرف ہے نہ جاں اور کی طرف

گھر دل میں تو ہمارے خدا کے لیے نہ لے

اے خانماں خراب مکاں اور کی طرف

ہم فاقہ مست رزق مقدر پہ شاد ہیں

بھیجے خدا طعام کے خواں اور کی طرف

اردو میں مصحفی کو بھی استاد کہہ کے شاد

آوازہ کس گیا یہ جواں اور کی طرف


شاد لکھنوی

شاد پیر و میر

No comments:

Post a Comment