Saturday, 12 June 2021

یہ جو ربط رو بہ زوال ہے یہ سوال ہے

 یہ جو ربط رو بہ زوال ہے یہ سوال ہے

مجھے اس کا کتنا ملال ہے یہ سوال ہے

یہ جو سر پہ میرے وبال ہے یہ سوال ہے

یہ جو گرد و پیش کا حال ہے یہ سوال ہے

مجھے کیا غرض مِرے دشمنوں کا ہدف ہے کیا

مِرے پاس کون سی ڈھال ہے یہ سوال ہے

مِرے سارے خواب ہیں معتبر میں ہوں در بہ در

یہ عروج ہے کہ زوال ہے یہ سوال ہے

مِرے ہاتھ شل مِرے پاؤں شل مِری عقل گم

کوئی اور اتنا نڈھال ہے یہ سوال ہے

مِرا ماضی کتنا امیر تھا میں غریب ہوں

کوئی یہ بھی ماضی و حال ہے یہ سوال ہے

کوئی ہے جو مجھ سا عظیم ہو جو فہیم ہو

یہ سوال کوئی سوال ہے یہ سوال ہے

نئے عہد کی یہ ترقیاں یہ تجلیاں

کوئی اس میں میرا کمال ہے یہ سوال ہے

وہ صدا نہ تھی وہ تو جذب تھا وہ تو عشق تھا

مِری صف میں کوئی بلال ہے یہ سوال ہے


شاہد لطیف

No comments:

Post a Comment