ہماری حکمرانی کے فسانے لد گئے ہیں
کسی کے ہجر میں اپنے زمانے لد گئے ہیں
نہیں منڈی میں کوئی چیز بھی پچھلی رُتوں کی
شرابِ کُہنہ اور چاول پرانے لد گئے ہیں
بچا ہے جو وہ اک شہرِ خموشاں کا ہے نوحہ
وہ خوشبو سے لدے موسم سہانے لد گئے ہیں۔
مجھے لوٹا گیا اور باربرداری کی خاطر
کمر میری پہ ہی وہ سب خزانے لد گئے ہیں
سنہری دن، حسیں راتیں، مہکتی شامیں تنہا
یہ سب کے سب کوئی مانے نہ مانے، لد گئے ہیں
میر تنہا یوسفی
No comments:
Post a Comment