Wednesday, 12 January 2022

ہماری حکمرانی کے فسانے لد گئے ہیں

 ہماری حکمرانی کے فسانے لد گئے ہیں

کسی کے ہجر میں اپنے زمانے لد گئے ہیں

نہیں منڈی میں کوئی چیز بھی پچھلی رُتوں کی

شرابِ کُہنہ اور چاول پرانے لد گئے ہیں

بچا ہے جو وہ اک شہرِ خموشاں کا ہے نوحہ

وہ خوشبو سے لدے موسم سہانے لد گئے ہیں۔

مجھے لوٹا گیا اور باربرداری کی خاطر

کمر میری پہ ہی وہ سب خزانے لد گئے ہیں

سنہری دن، حسیں راتیں، مہکتی شامیں تنہا

یہ سب کے سب کوئی مانے نہ مانے، لد گئے ہیں


میر تنہا یوسفی

No comments:

Post a Comment