Sunday, 4 October 2020

انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں

 انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں

یہ سوچنے بیٹھیں تو پریشانی سے مر جائیں

وہ جن کو میسر تھی ہر اک چیزے دگر بھی

ممکن ہے سہولت کی فراوانی سے مر جائیں

کشتی پہ تھے، کشتی کو جلاتے ہوئے حضرات

اب آگ سے بچ جائیں بھلے پانی سے مر جائیں

آئینے کا یہ کون سا سیزن ہے، ہمیں کیا

دیوار کو تکتے ہوئے حیرانی سے مر جائیں

بابر، کوئی مذہباتی کرونوں سے یہ پوچھے

کس کھاتے میں ہم آپ کی نادانی سے مر جائیں

اے دوست، مکمل نظر انداز ہی کر دیکھ

ایسا نہ ہو ہم، نِیم نگہبانی سے مر جائیں

بچ جائیں تو آخر کسے کیا فرق پڑے گا

دشمن نہ سہی دوست پشیمانی سے مر جائیں

آنکھوں میں اترتے ہوئے اترائیں ستارے

سورج ہوں تو جل کر تری پیشانی سے مر جائیں

رانجھے کو تو پھر ہیر کی تصویر بہت ہے

جی کرتا تھا لگ کر اسی مرجانی سے مر جائیں


ادریس بابر

No comments:

Post a Comment