میرا درماں دوائے صبوری نہیں
میں مغرور ہوں
یہ حقیقت ہے میں سخت مغرور ہوں
جانتا ہوں تکبّر بہت نا مناسب ہے لیکن
مجھے اس پہ ہرگز ندامت
خجالت وغیرہ نہیں ہے
کہ میں رُوئے دنیا پہ جلوہ نما
خوبصورت ترین عورتوں میں سے
افضل تریں کی محبت میں ڈوبا ہوا ہوں
یہی بات ہے جس پہ اِترا رہا ہوں
میں بدبخت ہوں
عمر بھر عشق کی چاکری کر کے میں
وصل کا ایک دن بھی کما نہ سکا
مجھ کو تلقینِ شکر و رضا کرنے والو
نہیں ہے، دماغِ تمنا نہیں ہے
دوائے صبوری مِرے غم کا درماں نہیں ہے
میں خوش فہم ہوں
موتیے کا کوئی پھول ہوں جس کو
شاخِ گلابِ عنابی پہ کھلنے کا اب بھی یقیں ہے
میں جوہڑ میں پھیلی ہوئی داب کی گھاس ہوں
اُگتا جاتا ہوں لیکن کنول پھول کھلتے نہیں
آپ ملتے نہیں
سرمد سروش
No comments:
Post a Comment