نکال پھینکیں دلوں کا تناؤ، صلح کریں
جھگڑنے والے سبھی لوگو آؤ صلح کریں
انا کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں اپنے رشتوں کو
بھلا کے دشمنیوں کا دباؤ صلح کریں
مِرے حضورؐ کی سنت ہے صلح کروانا
سو جو لڑے اسے جا کر بتاؤ؛ صلح کریں
حسد کی آگ پہ چھڑکیں خلوص کا پانی
بجھا کے بغض کے سارے الاؤ صلح کریں
اگر زمیں پہ ہی تم کو طلب ہے جنت کی
بیک زباں سبھی نعرہ لگاؤ؛ صلح کریں
یہی تو اصل میں فارس ہے دین کی معراج
نہ کینہ رکھیں نہ غصہ نہ تاؤ، صلح کریں
رحمان فارس
No comments:
Post a Comment