ٹکٹ
تم مِرے پاس تو نہیں پھر بھی
فون کے دوسری طرف ہو گی
جیسے اک آسمان چاروں طرف
تم ہو میرے لیے ہزاروں طرف
یہی ہوتا ہے کال کا مقصد
ان کہے اک سوال کا مقصد
ملنا چاہو تو آنکھیں بند کرو
اور لاہور کا ٹکٹ لے لو
انگلیاں چھونی، ہاتھ تهامنے ہیں
اور ہم اک دوسرے کے سامنے ہیں
ادریس بابر
No comments:
Post a Comment