Tuesday, 13 October 2020

اس کی آنکھوں کو کوئی روگ لگایا جائے

 اس کی آنکھوں کو کوئی روگ لگایا جائے

پھر کبھی نیند کو پہلو سے اٹھایا جائے

اس کو معلوم تو ہو ہم پہ گزرتی کیا ہے

رات بھر رات کو اک رات جگایا جائے

جب تجھے بھول گئے ہیں تو بہت یاد کیا

یہ سبب ہے تو تجھے پھر سے بھلایا جائے

اس سے پہلے کہ کوئی آ کے گرائے مندر

دل کے کعبے سے تیرا بت بھی ہٹایا جائے


خلیل الرحمان قمر

No comments:

Post a Comment