اس کی آنکھوں کو کوئی روگ لگایا جائے
پھر کبھی نیند کو پہلو سے اٹھایا جائے
اس کو معلوم تو ہو ہم پہ گزرتی کیا ہے
رات بھر رات کو اک رات جگایا جائے
جب تجھے بھول گئے ہیں تو بہت یاد کیا
یہ سبب ہے تو تجھے پھر سے بھلایا جائے
اس سے پہلے کہ کوئی آ کے گرائے مندر
دل کے کعبے سے تیرا بت بھی ہٹایا جائے
خلیل الرحمان قمر
No comments:
Post a Comment