مجھ سے آگے نظر آنے میں خوشی تھی اس کی
میری زنجیر سے زنجیر بڑی تھی اس کی
اک روایت تھی کہ اس شہر میں اک شخص ہے کم
اس نے ثابت کیا آ کر یہ کمی تھی اس کی
اب جو سنتا ہوں تو کچھ اور سنا جاتا ہے
کبھی میری تھی یہ آواز کبھی تھی اس کی
جب اندھیرے میں اندھیرے کی طرح تھے سب لوگ
روشنی یاد ہے کس کس پہ پڑی تھی اس کی
باتیں کٹ کٹ کے ہوا ہوتی تھیں آتے جاتے
اس قدر میرے برابر میں گلی تھی اس کی
جس کی شے تھی اسے لوٹانے چلا آیا ہوں
مجھے آئینے میں تصویر ملی تھی اس کی
پل صراط ایسا کہ سینے سے لگا رہتا تھا
گمرہی میری تھی یا راہبری تھی اس کی
شاہین عباس
No comments:
Post a Comment