Tuesday, 13 October 2020

مجھ سے آگے نظر آنے میں خوشی تھی اس کی

 مجھ سے آگے نظر آنے میں خوشی تھی اس کی

میری زنجیر سے زنجیر بڑی تھی اس کی

اک روایت تھی کہ اس شہر میں اک شخص ہے کم

اس نے ثابت کیا آ کر یہ کمی تھی اس کی

اب جو سنتا ہوں تو کچھ اور سنا جاتا ہے

کبھی میری تھی یہ آواز کبھی تھی اس کی

جب اندھیرے میں اندھیرے کی طرح تھے سب لوگ

روشنی یاد ہے کس کس پہ پڑی تھی اس کی

باتیں کٹ کٹ کے ہوا ہوتی تھیں آتے جاتے

اس قدر میرے برابر میں گلی تھی اس کی

جس کی شے تھی اسے لوٹانے چلا آیا ہوں

مجھے آئینے میں تصویر ملی تھی اس کی

پل صراط ایسا کہ سینے سے لگا رہتا تھا

گمرہی میری تھی یا راہبری تھی اس کی


شاہین عباس

No comments:

Post a Comment